Saturday, 17 January 2015

نگاہ کی حفاظت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سیدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشّیطٰنِ الرَّجِیْم ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

نگاہ کی حفاظت

پیارے اسلامی بھائیو! 
یہ دنیا زہرِ قاتل ہے مگر لوگ اس کی ہلاکتوں سے بے خبر ہیں ،۔۔۔۔۔۔کتنی نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں بڑی پیاری لگتی ہیں مگر بعد میں ان کا تیکھا پن سہا نہیں جاتا،۔۔۔۔۔۔ اے ابن آدم! تیرادل بہت کمزور ہے اور تیری رائے حقیقت میں ناقص ہے،تیری آنکھ آزاد ہے اور تیری زبان گناہوں سے آلودہ ہے، ۔۔۔۔۔۔تیرا جسم گناہ کر کرکے تھک جاتاہے،۔۔۔۔۔۔ کتنی نگاہیں ایسی ہیں جنہیں معمولی سمجھا جاتاہے مگر ان سے قدم پھسل جاتاہے۔
چند اشعار

عَاتَبْتُ قَلْبِیْ لَمَّا رَاَیْتُ جِسْمِیْ نَحِیْلًا
فَلَامَ قَلْبِیْ طَرْفِیْ وَقَالَ کُنْتَ ا لرَّسُوْلَا
فَقَالَ طَرْفِیْ لِقَلْبِیْ بَلْ کُنْتَ اَنْتَ الدَّلِیلَا
فَقُلْتُ کُفَّاجَمِیْعًا تَرَکْتُمَانِیْ قَتِیْلًا

ترجمہ:(۱) جب میں نے اپنے جسم کے دبلاپتلاہونے پرغورکیاتو اپنے دل کوملامت کرنے لگا۔
(۲) تومیرے دل نے میری آنکھ کو ملامت کی اور کہا کہ'' تو ہی پیغام دیتی ہے ۔''
(۳)تومیری آنکھ نے میرے دل کوجواب دیا'' رہنمائی توتُو ہی کرتاہے ۔''
(۴)تومیں نے (ان دونوں سے)کہا:''تم دونوں ہی (اپنی برائیوں سے) رُک جاؤ، تم دونوں نے مجھے ہلاک کر ڈالا ہے ۔''

بدنگاہی کا وبال:

حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ السلام فرمایا کرتے تھے کہ'' بدنگا ہی دل میں شہوت کا بیج بو دیتی ہے۔''
حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' جس نے اپنی آنکھ کو آزاد کر دیا اس کے رنج بڑھ گئے ۔''
اورحضرت سیدنا ابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

وَمَنْ کَانَ یُؤْتٰی مِنْ عَدُوٍّ وَّحَاسِدٍ فَاِنِّیْ مِنْ عَیْنَیَّ اُوْتٰی وَمِنْ قَلْبِیْ

یعنی :اورجونقصان کسی دشمن اور حاسد سے پہنچتا ہے مجھے وہی نقصان اپنی آنکھ اور دل سے ہوتا ہے۔

بدنگاہی کی سزا:

حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ'' ایک شخص نبی مُکَرَّم، نورِ مجَسّمْ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا خون بہہ رہاتھا تو سرورِکونین ،دکھی دلوں کے چین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے استفسار فرمایا :'' تجھے کیا ہوا ؟'' اس نے عرض کی:'' میرے پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اس کی طرف دیکھا اور میری نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کرتی رہیں کہ اچانک میرے سامنے ایک دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اورمیرایہ حال کردیا جسے آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔''تو نبئ مُکَرَّم،نورِ مُجسّمْ،شفیع معظم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اللہ عزوجل جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی میں اس کی سزادے دیتاہے۔''

(مجمع الزوائد ، کتاب التو بۃ ، باب فیمن عوقب بذنبہ فی الدنیا ، رقم ۱۷۴۷۱،ج ۱۰ ، ص۳۱۳ )

صَلُّو ا عَلی الْحَبِیب ! صلّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد

No comments:

Post a Comment